From
Subject
Time (UTC)
notification+kr4kaqyabs2n@facebookmail.com
[Youngistan] ‎‫::::::::::: اندھیر نگری کا کالا قانون ::::::::::::‬‎
2015-04-25 14:31:49
To: Youngistan
From: notification+kr4kaqyabs2n@facebookmail.com
Subject:

[Youngistan] ‎‫::::::::::: اندھیر نگری کا کالا قانون ::::::::::::‬‎


Received: 2015-04-25 14:31:49
  Sohail Ilyas Khan posted in Youngistan       Sohail Ilyas Khan 25 April at 04:31   ::::::::::: اندھیر نگری کا کالا قانون :::::::::::: ہم بچپن سے ایک نعرہ سنتے آ رہے ہیں کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا بٹھو آج بھی زندہ ہے ، بٹھو تو عظیم لیڈر تھا اور شہید بھی یہ نعرہ بالکل پاکستانی عوام کی عین امنگوں کے ساتھ سجتا ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بٹھو تو کب کا اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ، مگر جیالے کیوں نہیں اپنے روشن مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ، نعرہ بٹھو کا لگا کر ووٹ آصف علی زرداری کے کھاتے کیوں ڈال رہے ہیں ،؟ کراچی کی معصوم عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جس نے ہر دور کے فرعون کا ظلم ہنس کر برداشت کیا ہے کہیں ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں تو کہیں بھتہ خوری کے واقعات میں ہر طرح کی برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے اب کراچی کی عوام ظلم سہہ سہہ کر عادی ہوچکی ہے ، جو بات اب میں کرنے لگا ہوں وہ میرے جیسا کمزور آدمی شاید برداشت نہ کر پائے مگر یقین سے کہتا ہوں یہ بات بھی کراچی کی عوام برداشت کرلے گی ، آصف علی زرداری صاحب لیاری میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جسکا کل خرچہ 1 کروڑ 50 لاکھ ہورہا ہے لیکن وہ خرچہ آصف علی زرداری کا نہیں ہورہا ہے بلکہ کراچی کی معصوم عوام کے دیے ہوئے ٹیکس سے استعمال کیا جارہا ہے ، کیونکہ سندھ میں تو جیالے رہتے ہیں نہ انکے پاس بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس وہ کس چیز کا ٹیکس ادا کریں گے ! یہ کڑوا گھونٹ بھی کراچی والوں کو بھرنا ہوگا ، ہم عوام کی بے حسی اور اعمال اسی دن عیاں ہوگئے تھے جب ہمارے اوپر آصف علی زرداری صدر پاکستان مسلط ہوگیا تھا ،، اب دیکھنا ہے کہ ایم کیو ایم نے نیاانتخاب جیتا ہے وہ اس 1 کروڑ 50 لاکھ جو کہ عوام کا دیا ہوا ٹیکس ہے اسکو ناجائز استعمال کرنے پر کتنی آواز بلند کرتی ہے ، اور ووٹ دینے والی مظلوم عوام کا کتنا پاس رکھتی ہے ؟ کیونکہ حکومت پاکستان تو کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،، اگر کچھ بولے تو میاں صاحب کے بیرونی دورے کرنے پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں اس لیے وہ عوام سے کی جانی والی زیادتی بند کروانے سے قاصر ہے ، عوام کا خون چوس چوس کر عوام کے اوپر حکمرانی کرنے والے نااہل سیاست دان میری بات کا جواب دیں ، اگر کوئی سیاست دان عوام کے حق میں اتنا ہی مخلص اور درد رکھنے والا ہے تو آصف علی زرداری سے پوچھے کہ تم سندھ کے اتنے بڑے جاگیردار ہو اور زرداری قبیلے کے حالیہ ہی کچھ ماہ پہلے سردار منتخب ہوئے ہو تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے اور روپیہ مظلوم عوام کا کیوں جلسوں کی نظر کررہے ہو ؟ کاش کوئی تو پوچھے کوئی تو حق کےلیے آواز اٹھائے ؟ یہی روپیہ سندھ کے تعلیمی اداروں کو دیا جاتا تو شاید کچھ سندھی غریب بچے علمی روشنی سے مستفید ہوجاتے یا پھر کسی ہیلتھ کے ادارے کو دیا جاتا ہے تو ہسپتال میں جو اہم اور ضروری سامان ہے وہ خریدا جاتا تو شاید سامان نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والے مریضوں میں کمی آجاتی، اگر ایسا کرنا بھی گہوارہ نہیں سندھ حکومت کو تو خدا کا خوف کھاکر تھر میں پانی کی کمی سے ننھی کلیاں ایک ایک قطرے کو ترس کر جان دے رہی ہیں پانی مہیا کرکے انکو بچانے کے کام آجاتا ، لیکن کچھ نہیں ہوگا میرے لکھے الفاظ صرف پڑھ کر بھلا دیے جائیں گے ، ہم آج اتنے بے حس اور خودغرض بن چکے ہیں کہ مطلب کے بغیر کسی کے ساتھ کوئی رابطہ رکھنا گہوارہ نہیں کرتے ، تو میرے لکھے ہوئے لفظوں کی کیا اوقات ہے ،، آخر کب تک سوئے رہو گے ؟ جب تمہاری نسلوں کے مستقبل اور روشن ضمیر ان بے حس مٹھی بھر اشرافیہ کی نظر ہوجائیں گے ، تب جاگو گے لیکن اس وقت جاگنے سے کچھ نہیں ملے گا سوائے اپنی بے بسی پہ ماتم کرنے کے ، آخر کب تک اندھیر نگری کا کالا قانون چلتا رہے گا ؟ کب بٹھو شہید کے نام کی خاطر لٹتے رہو گے ، کیونکہ بٹھو آج بھی زندہ ہے کل بھی زندہ رہے گا ، تم آج بھی سوئے ہوئے ہو کل بھی سوئے ہوئے رہوگے !       Like     Comment     Share    
   
 
   Youngistan
 
   
   
 
Sohail Ilyas Khan posted in Youngistan
 
   
Sohail Ilyas Khan
25 April at 04:31
 
::::::::::: اندھیر نگری کا کالا قانون ::::::::::::

ہم بچپن سے ایک نعرہ سنتے آ رہے ہیں کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا بٹھو آج بھی زندہ ہے ،
بٹھو تو عظیم لیڈر تھا اور شہید بھی یہ نعرہ بالکل پاکستانی عوام کی عین امنگوں کے ساتھ سجتا ہے ،
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بٹھو تو کب کا اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ،
مگر جیالے کیوں نہیں اپنے روشن مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ،
نعرہ بٹھو کا لگا کر ووٹ آصف علی زرداری کے کھاتے کیوں ڈال رہے ہیں ،؟
کراچی کی معصوم عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جس نے ہر دور کے فرعون کا ظلم ہنس کر برداشت کیا ہے کہیں ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں تو کہیں بھتہ خوری کے واقعات میں ہر طرح کی برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے
اب کراچی کی عوام ظلم سہہ سہہ کر عادی ہوچکی ہے ،
جو بات اب میں کرنے لگا ہوں وہ میرے جیسا کمزور آدمی شاید برداشت نہ کر پائے مگر یقین سے کہتا ہوں یہ بات بھی کراچی کی عوام برداشت کرلے گی ،
آصف علی زرداری صاحب لیاری میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جسکا کل خرچہ 1 کروڑ 50 لاکھ ہورہا ہے لیکن وہ خرچہ آصف علی زرداری کا نہیں ہورہا ہے بلکہ کراچی کی معصوم عوام کے دیے ہوئے ٹیکس سے استعمال کیا جارہا ہے ،
کیونکہ سندھ میں تو جیالے رہتے ہیں نہ انکے پاس بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس وہ کس چیز کا ٹیکس ادا کریں گے !
یہ کڑوا گھونٹ بھی کراچی والوں کو بھرنا ہوگا ،
ہم عوام کی بے حسی اور اعمال اسی دن عیاں ہوگئے تھے جب ہمارے اوپر آصف علی زرداری صدر پاکستان مسلط ہوگیا تھا ،،
اب دیکھنا ہے کہ ایم کیو ایم نے نیاانتخاب جیتا ہے وہ اس 1 کروڑ 50 لاکھ جو کہ عوام کا دیا ہوا ٹیکس ہے اسکو ناجائز استعمال کرنے پر کتنی آواز بلند کرتی ہے ،
اور ووٹ دینے والی مظلوم عوام کا کتنا پاس رکھتی ہے ؟

کیونکہ حکومت پاکستان تو کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،،
اگر کچھ بولے تو میاں صاحب کے بیرونی دورے کرنے پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں اس لیے وہ عوام سے کی جانی والی زیادتی بند کروانے سے قاصر ہے ،
عوام کا خون چوس چوس کر عوام کے اوپر حکمرانی کرنے والے نااہل سیاست دان میری بات کا جواب دیں ،
اگر کوئی سیاست دان عوام کے حق میں اتنا ہی مخلص اور درد رکھنے والا ہے تو آصف علی زرداری سے پوچھے کہ تم سندھ کے اتنے بڑے جاگیردار ہو اور زرداری قبیلے کے حالیہ ہی کچھ ماہ پہلے سردار منتخب ہوئے ہو تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے اور روپیہ مظلوم عوام کا کیوں جلسوں کی نظر کررہے ہو ؟
کاش کوئی تو پوچھے کوئی تو حق کےلیے آواز اٹھائے ؟
یہی روپیہ سندھ کے تعلیمی اداروں کو دیا جاتا تو شاید کچھ سندھی غریب بچے علمی روشنی سے مستفید ہوجاتے
یا پھر کسی ہیلتھ کے ادارے کو دیا جاتا ہے تو ہسپتال میں جو اہم اور ضروری سامان ہے وہ خریدا جاتا تو شاید سامان نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والے مریضوں میں کمی آجاتی،
اگر ایسا کرنا بھی گہوارہ نہیں سندھ حکومت کو تو خدا کا خوف کھاکر تھر میں پانی کی کمی سے ننھی کلیاں ایک ایک قطرے کو ترس کر جان دے رہی ہیں پانی مہیا کرکے انکو بچانے کے کام آجاتا ،
لیکن کچھ نہیں ہوگا میرے لکھے الفاظ صرف پڑھ کر بھلا دیے جائیں گے ،
ہم آج اتنے بے حس اور خودغرض بن چکے ہیں کہ مطلب کے بغیر کسی کے ساتھ کوئی رابطہ رکھنا گہوارہ نہیں کرتے ،
تو میرے لکھے ہوئے لفظوں کی کیا اوقات ہے ،،

آخر کب تک سوئے رہو گے ؟
جب تمہاری نسلوں کے مستقبل اور روشن ضمیر ان بے حس مٹھی بھر اشرافیہ کی نظر ہوجائیں گے ،
تب جاگو گے لیکن اس وقت جاگنے سے کچھ نہیں ملے گا سوائے اپنی بے بسی پہ ماتم کرنے کے ،
آخر کب تک اندھیر نگری کا کالا قانون چلتا رہے گا ؟
کب بٹھو شہید کے نام کی خاطر لٹتے رہو گے ،
کیونکہ بٹھو آج بھی زندہ ہے کل بھی زندہ رہے گا ،
تم آج بھی سوئے ہوئے ہو کل بھی سوئے ہوئے رہوگے !
 
   Like
   Comment
   Share
 
 
   
   
 
View Post
   
Edit Email Settings
 
   
   
Reply to this email to comment on this post.
 
   
   
 
This message was sent to deleted@email-fake.pp.ua. If you don't want to receive these emails from Facebook in the future, please unsubscribe.
Facebook, Inc., Attention: Department 415, PO Box 10005, Palo Alto, CA 94303